سیدھے مواد پر جائیں
سورت 35 · آیت 14

Faatir 35:14

فاطر

إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا۟ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا۟ مَا ٱسْتَجَابُوا۟ لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ

معنی

اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں[1] اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے[2]، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے[3]۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.[4]

[1] یعنی اگر تم انہیں مصائب میں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ وہ جمادات ہیں یامنوں مٹی کے نیچے مدفون۔
[2] یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بےفائدہ، اس لئے کہ وہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کرسکتے۔
[3] اور کہیں گے «مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ» (يونس: 28) ”تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔ «إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ» (يونس: 29) ”ہم تو تمہاری عبادت سے بےخبر تھے“۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے۔ تب ہی تو یہ انکار کریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حاجت براری کے لئے پکارنا شرک ہے۔
[4] اس لئے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی کنہ اور حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان پکارﮮ جانے والوں کی بےاختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دیتے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے اور تمہیں خبر رکھنے والے کی طرح کوئی نہیں بتائے گا

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

(اے مشرکو!) اگر تم انہیں پکارو تو وہ (بت ہیں) تمہاری پکار نہیں سُن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے، اور قیامت کے دن وہ تمہارے شِرک کا بالکل انکار کر دیں گے، اور تجھے خدائے باخبر جیسا کوئی خبردار نہ کرے گا،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
Faatir

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net