سیدھے مواد پر جائیں
سورت 35 · آیت 10

Faatir 35:10

فاطر

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ ٱلْكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلْعَمَلُ ٱلصَّـٰلِحُ يَرْفَعُهُۥ ۚ وَٱلَّذِينَ يَمْكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُوَ يَبُورُ

معنی

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے[1] ، تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں[2] اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے[3]، جو لوگ برائیوں کے داؤں گھات میں لگے رہتے ہیں[4] ان کے لئے سخت تر عذاب ہے، اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا.[5]

[1] یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے، تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہوجائے گا۔ اس لئے کہ دنیا وآخرت کا مالک اللہ ہی ہے، ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے، وہی عزیز ہوگا، جس کو وہ ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔ دوسرے مقام پر فرمایا۔ «الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا» (النساء: 139)۔
[2] الْكَلِمُ، كَلِمَةٌ کی جمع ہے، ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبیح وتحمید، تلاوت، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ چڑھتے ہیں کا مطلب، قبول کرنا ہے۔ یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوں پر چڑھنا ہے تاکہ اللہ ان کی جزا دے۔
[3] يَرْفَعُهُ، میں ضمیر کا مرجع کون ہے؟ بعض کہتے ہیں الْكَلِمُ الطَّيِّبُ ہے، یعنی عمل صالح کلمات طیبات کو اللہ کی طرف سے بلند کرتا ہے۔ یعنی محض زبان سے اللہ کا ذکر (تسبیح وتحمید) کچھ نہیں، جب تک اس کے ساتھ عمل صالح یعنی احکام وفرائض کی ادائیگی بھی نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں يَرْفَعُه ُ میں فاعل کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو کلمات طیبات پر بلند فرماتا ہے اس لئے کہ عمل صالح سے ہی اس بات کا تحقق ہوتا ہے کہ اس کا مرتکب فی الواقع اللہ کی تسبیح وتحمید میں مخلص ہے (فتح القدیر) گویا قول، عمل کے بغیر، اللہ کے ہاں بےحیثیت ہے۔
[4] خفیہ طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو مکر کہتے ہیں کفروشرک کا ارتکاب بھی مکر ہے کہ اس طرح اللہ کے راستہ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے خلاف قتل وغیرہ کی جو سازشیں کفار مکہ کرتے رہے، وہ بھی مکر ہے، ریاکاری بھی مکر ہے۔ یہاں یہ لفظ عام ہے، مکر کی تمام صورتوں کو شامل ہے۔
[5] یعنی ان کا مکر بھی برباد ہوگا اور اس کا وبال بھی ان ہی پر پڑے گا جو اس کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسے فرمایا۔ «وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلا بِأَهْلِهِ» (فاطر: 43)۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

جو کوئی عزت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عمل صالح اس کو اوپر چڑھاتا ہے رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں، اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

جو شخص عزت چاہتا ہو سو الله ہی کے لیے سب عزت ہے اسی کی طرف سب پاکیزہ باتیں چڑھتی ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں انہی کے لیے سخت عذاب ہے اوران کی بری تدبیر ہی برباد ہو گی

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

جو شخص عزت کا طلب گار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں۔ اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گا،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
Faatir

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net