Ar-Room 30:54
الرومٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت[1] میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی[2] دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا[3] جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[4]، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے.
[1] یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سےانسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سےمراد نطفہ یعنی قطرۂ آب ہے یا عالم طفولیت۔
[2] یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی وجسمانی تکمیل ہو جاتی ہے۔
[3] کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی وجسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہو جاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست، ہاتھ پیروں کی حرکت وگرفت کمزور،بال سفید اور تمام ظاہری وباطنی صفات متغیر ہو جاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑےاطوار بیان کیے ہیں،بعض علما نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انہیں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے جو قرآن کےاجمال کی توضیح اور اس کے اعجاز بیان کی شرح ہے مثلاً امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انسان یکے بعد دیگرے ان حالات واطوار سےگزرتا ہے۔ اس کی اصل مٹی ہے۔ یعنی اس کے باپ آدم (عليه السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ یا انسان جو کچھ کھاتا ہے، جس سے وہ منی پیدا ہوتی ہے جو رحم مادر میں جاکر اس کے وجود وتخلیق کا باعث بنتی ہے، وہ سب مٹی ہی کی پیداوار ہے پھر وہ نطفہ، نطفہ سے علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، جنہیں گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر ماں کے پیٹ سے اس حال میں نکلتا ہے کہ نحیف ونزار اور نہایت نرم ونازک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج نشوونما پاتا، بچپن، بلوغت اور جوانی کو پہنچتا ہے اور پھر بتدریج رجعت قہقریٰ کا عمل شروع ہو جاتا ہے، کہولت، شیخوخت اور پھر کبر سنی (بڑھاپا) تا آنکہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔
[4] انہی اشیاء میں ضعف وقوت بھی ہے۔ جس سے انسان گزرتا ہے جیسا کہ ابھی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے اور وہی علم و قدرت والا ہے،
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
الله ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے اوروہی جاننے والا قدرت والا ہے
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کیا، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net