سیدھے مواد پر جائیں
سورت 29 · آیت 29

Al-Ankaboot 29:29

العنكبوت

أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

معنی

کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو[1] اور راستے بند کرتے ہو[2] اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو[3]؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس[4] جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ.

[1] یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ اس کے لیے طبعی طریقے تمہارے لیے ناکافی ہوگئے ہیں اور غیر طبعی طریقہ تم نے اختیار کر لیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لیے طبعی طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لیے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر فطری اور غیر طبعی طریقہ ہے۔
[2] اس کے ایک معنی تو یہ کیے گئے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نوواردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لیے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا اور لوگ گھروں میں بیٹھے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ دوسرے معنی ہیں کہ تم آنے جانے والوں کو لوٹ لیتے اور قتل کر دیتے ہو یا ازراہ شرارت انہیں کنکریاں مارتے ہو۔ تیسرے معنی کیے گئے ہیں کہ سرراہ ہی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس سے وہاں سے گزرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔ ان تمام صورتوں سے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ کسی ایک خاص سبب کی تعیین تو مشکل ہے تاہم وہ ایسا کام ضرور کرتے تھے ، جس سے عملاً راستہ بند ہو جاتا تھا۔ قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کیے گئے ہیں۔ یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کے بجائے مردوں کی دبر استعمال کرکے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئےہو۔ (فتح القدیر)
[3] یہ بےحیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلاً لوگوں کو کنکریاں مارنا ، اجنبی مسافر کا استہزا واستخفاف ، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قمار بازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں (کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں)۔
[4] حضرت لوط (عليه السلام) نے جب انہیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا . . .۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

معنی

کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"

معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil

معنی

کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو

معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil

معنی

کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور تم ڈاکے ڈالتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو پھر اس کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ تو ہم پر الله کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے

معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

معنی

تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ

معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil

معنی

کیا تم (شہوت رانی کے لئے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی (بھری) مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو، تو ان کی قوم کا جواب (بھی) اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے: تم ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو،

معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil

تفاسیر
Al-Ankaboot

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net