Taa-Haa 20:68
طهقُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْأَعْلَىٰ
ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا.[1]
[1] اس دہشت ناک منظر کو دیکھ کر اگر حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے خوف محسوس کیا، تو یہ ایک طبعی چیز تھی، جو کمال نبوت کے منافی ہے نہ عصمت کے۔ کیونکہ نبی بھی بشر ہی ہوتا ہے اور بشریت کے طبعی تقاضوں سے نہ وہ بالا ہوتا ہے نہ ہو سکتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح انبیاءکو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) پر بھی یہودیوں نے جادو کیا تھا، جس کے کچھ اثرات آپ محسوس کرتے تھے، اسے بھی منصب نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیوں کہ اس سے کار نبوت متاثر نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نبی کی حفاظت فرماتا ہے اور جادو سے وحی یا فریضہ رسالت کی ادائیگی کو متاثر نہیں ہونے دیتا۔ اور ممکن ہے کہ یہ خوف اس لئے ہو کہ میری لاٹھی ڈالنے سے قبل ہی کہیں لوگ ان کرتبوں اور شعبدہ بازیوں سے متاثر نہ ہوجائیں، لیکن اغلب ہے کہ یہ خوف اس لئے ہوا کہ ان جادوگروں نے بھی جو کرتب دکھایا، وہ لاٹھیوں کے ذریعے سے ہی دکھایا، جب کہ موسیٰ (عليه السلام) کے پاس بھی لاٹھی ہی تھی جسے انہیں زمین پر پھینکنا تھا، موسیٰ (عليه السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ دیکھنے والے اس سے شبہے اور مغالطے میں نہ پڑ جائیں اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ دونوں نے ایک ہی قسم کا جادو پیش کیا، اس لئے یہ فیصلہ کیسے ہو کہ کون سا جادو ہے اور کون سے معجزہ؟ کون غالب ہے کون مغلوب؟ گویا جادو اور معجزے کا جو فرق واضح کرنا مقصود ہے، وہ مذکورہ مغالطے کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے گا، اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کو بسا اوقات یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھ پر کس نوعیت کا معجزہ ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ خود معجزہ کو ظاہر کرنے پر قدرت تو دور کی بات ہے، یہ تو محض اللہ کا کام ہے کہ وہ انبیاء کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے، بہرحال موسیٰ (عليه السلام) کے اندیشے اور خوف کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے فرمایا: موسیٰ! کسی بھی لحاظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو ہی غالب رہے گا، اس جملے سے طبعی خوف اور دیگر اندیشوں، سب کا ہی ازالہ فرما دیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے،
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
ہم نے کہا ڈرو مت بیشک تو ہی غالب ہوگا
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
ہم نے (موسٰی علیہ السلام سے) فرمایا: خوف مت کرو بیشک تم ہی غالب رہوگے،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net