An-Nahl 16:78
النحلوَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْـًٔا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے[1] ، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے[2] کہ تم شکر گزاری کرو.[3]
[1] ”شَیْئًا“ نکرہ ہے، تم کچھ نہیں جانتے تھے، نہ نیکی و بد بختی کو، نہ فائدے اور نقصان کو۔
[2] تاکہ کانوں کے ذریعے تم آوازیں سنو، آنکھوں کے ذریعے سے چیزوں کو دیکھو اور دل، یعنی عقل (کیونکہ عقل کا مرکز دل ہے) دی، جس سے چیزوں کے درمیان تمیز کر سکو اور نفع نقصان پہچان سکو، جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے، اس کی عقل و حواس میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب انسان شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کی یہ صلاحیتیں بھی قوی ہو جاتی ہیں، حتیٰ کہ پھر کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔
[3] ﯾﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﺻﻼﺣﯿﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﺗﯿﮟ اللہ تعالی ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﻄﺎ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻥ ﺍﻋﻀﺎ ﻭﺟﻮﺍﺭﺡ ﻛﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻛﺮﮮ ﺟﺲ ﺳﮯ اللہ تعالی ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ اللہﹴ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭﺍﻃﺎﻋﺖ ﻛﺮﮮ ۔ ﯾﮩﯽ اللہ ﻛﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ کا ﻋﻤﻠﯽ ﺷﻜﺮ ﮨﮯ ۔ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ کہ (اللہ تعالی فرماتا ہے): ”ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﺟﻦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻭﮦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺯﯾﮟ ﻧﻮﺍﻓﻞ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﯽ ﺳﻌﯽ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ, حتی ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ, ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ کا کان ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ, آنکھ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺩﯾﻜﮭﺘﺎ ﮨﮯ, ہاتھ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭘﻜﮍﺗﺎ ﮨﮯ, پاؤں ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ, ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ مجھ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ مجھ ﺳﮯ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻃﻠﺐ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ“۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ, ﻛﺘﺎﺏ ﺍﻟﺮﻗﺎﻕ, ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺘﻮﺍﺿﻊ) ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ کا ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﻟﮯ ﻛﺮ اولیاء اللہ ﻛﻮ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ کا ﺣﺎﻣﻞ ﺑﺎﻭﺭ ﻛﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺣﺪﯾث کا ﻭﺍﺿﺢ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻭﻋﺒﺎﺩﺕ اللہ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﻛﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ کا ہر کام ﺻﺮﻑ اللہ کی ﺭﺿﺎ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ, ﺍﭘﻨﮯ کانوں ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﻜﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﻜﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﯽ اللہ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﮨﮯ, ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ہاتھ ﺳﮯ ﭘﻜﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﻞ ﻛﺮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻭﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻧﮯ ﺭﻭﺍ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻛﻮ اللہ ﻛﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮﺗﺎ ﺑﻠﻜﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو
معنی: Urdu Translation - Abul A'ala Maududi. As distributed by the Tanzil Project (last update November 15, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-11-15، 2010-11-15۔ Tanzil
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ تم احسان مانو، ف۱۷۲)
معنی: Urdu Translation - Ahmed Raza Khan. As distributed by the Tanzil Project (last update March 17, 2011), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2011-03-17، 2011-03-17۔ Tanzil
اور الله نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا تم کسی چیز کو نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تاکہ تم شکر کرو
معنی: Urdu Translation - Ahmed Ali. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو
معنی: Urdu Translation - Fateh Muhammad Jalandhry. As distributed by the Tanzil Project (last update December 24, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-12-24، 2010-12-24۔ Tanzil
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حالت میں) باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤ،
معنی: Urdu Translation - Tahir ul Qadri. As distributed by the Tanzil Project (last update August 16, 2010), whose terms for its translations are for non-commercial use only. ورژن 2010-08-16، 2010-08-16۔ Tanzil
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net