سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
سورت 9

At-Tawba

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 3

وَأَذَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 3

اور اعلان ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے لوگوں کی طرف، دن حج اکبر کے، کہ بے شک اللہ دست بردار ہے مشرکین سے اوراس کا رسول (بھی)، پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اوراگر تم نے منہ پھیر ے رکھا تو جان لو کہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کواور خوشخبری دے دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، عذاب درد ناک کی(3)

[3] یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہy کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں ۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔حضرت ابوبکرt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالبt نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ١ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي اللّٰهِ﴾ ’’پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔‘‘ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔