At-Tawba
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌ صَـٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ 120 وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ 121
نہیں لائق واسطے اہل مدینہ کے اور ان کے جو آس پاس ہیں ان کے دیہاتیوں میں سے، یہ کہ پیچھے رہ جائیں وہ( جہاد میں ) رسول اللہ سے اور نہ یہ(جائزہے) کہ رغبت رکھیں وہ اپنی جانوں سے بے پروا ہو کر رسول اللہ کی جان سے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ نہیں پہنچتی انھیں (کوئی تکلیف ، یعنی ) پیاس اور نہ تھکاوٹ اور نہ بھوک اللہ کے راستے میں اور نہیں روندتے (طے کرتے) وہ کسی مقام کو جو غضب ناک کردے کافروں کواور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کوئی کامیابی (غنیمت وغیرہ) مگر لکھا جاتا ہے ان کے لیے بدلے اس کے عمل صالح، بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر احسان کرنے والوں کا (120) اور نہیں خرچ کرتے وہ کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑااور نہیں طے کرتے وہ کوئی وادی مگر لکھا جاتاہے وہ( سب) ان کے لیے تاکہ جزادے انھیں اللہ بہترین (جزا) اس کی جو تھے و ہ عمل کرتے (121)
[120] اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے اردگرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انھوں نے اپنے اسلام کو صحیح کر لیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے‘‘ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿ وَلَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں ‘‘ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’رسول کی جان سے زیادہ‘‘ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں لیکن نبی کریمﷺ کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں بلکہ اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرمﷺ اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہﷺ کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت‘‘ یعنی تھکان اور مشقت ﴿ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں ۔‘‘ ﴿ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر‘‘ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے﴿ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا﴾ ’’اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز‘‘ ، مثلاً: لشکر یا سریہ کے ذریعے سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ﴾ ’’مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے‘‘ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں ۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں ۔
[121] پھر فرمایا: ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا ﴾ ’’اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہیں طے کرتے کوئی میدان‘‘ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لیے ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ بدلہ دے ان کو اللہ بہتر اس کام کا جو وہ کرتے تھے‘‘ اور اسی میں یہ اعمال بھی شامل ہیں جب ان میں خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو۔ان آیات کریمہ میں نفوس کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور ان کو شوق دلایا گیا ہے اور جہاد میں تکالیف پہنچنے پر ثواب کی امید دلائی گئی ہے نیز یہ کہ جہاد ان کے لیے ترقی درجات کا باعث ہے۔ نیز ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کے عمل پر مترتب ہونے والے آثار میں بہت بڑا اجر ہے۔