Al-Fajr
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ 15 وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ 16 كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ 17 وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ 18 وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا 19 وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّا جَمًّا 20
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘