سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Fajr
سورت 89

Al-Fajr

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 1–5

وَٱلْفَجْرِ 1 وَلَيَالٍ عَشْرٍ 2 وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ 3 وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ 4 هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِى حِجْرٍ 5

قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔