سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anfaal
سورت 8

Al-Anfaal

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 1–4

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ 1 إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَـٰنًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ 2 ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ 3 أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُمْ دَرَجَـٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ 4

سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)

[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔

[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔

[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔

[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔