سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naba
سورت 78

An-Naba

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 17–30

إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا 17 يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا 18 وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا 19 وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا 20 إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا 21 لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا 22 لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا 23 لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا 24 إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا 25 جَزَآءً وِفَاقًا 26 إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًا 27 وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًا 28 وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا 29 فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا 30

بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)

[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔

[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔