سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naba
سورت 78

An-Naba

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 1–5

عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ 1 عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ 2 ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ 3 كَلَّا سَيَعْلَمُونَ 4 ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ 5

کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: