Al-Mursalaat
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًا 1 فَٱلْعَـٰصِفَـٰتِ عَصْفًا 2 وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشْرًا 3 فَٱلْفَـٰرِقَـٰتِ فَرْقًا 4 فَٱلْمُلْقِيَـٰتِ ذِكْرًا 5 عُذْرًا أَوْ نُذْرًا 6 إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌ 7 فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ 8 وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتْ 9 وَإِذَا ٱلْجِبَالُ نُسِفَتْ 10 وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ 11 لِأَىِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ 12 لِيَوْمِ ٱلْفَصْلِ 13 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ 14 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 15
قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔
[7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔
[14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔
[15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔