سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Mursalaat
سورت 77

Al-Mursalaat

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 41–45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ وَعُيُونٍ 41 وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ 42 كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 43 إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ 44 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 45

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45)

[45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔