سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qiyaama
سورت 75

Al-Qiyaama

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 7–15

فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ 7 وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ 8 وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ 9 يَقُولُ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ 10 كَلَّا لَا وَزَرَ 11 إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ 12 يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ 13 بَلِ ٱلْإِنسَـٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌ 14 وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ 15

پس جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15)

[10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ﴾(ابراہیم: 14؍42-43) ’’ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن (دہشت کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اس دن انسان کہے گا۔‘‘ یعنی جب وہ بے قرار کر دینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا: ﴿ اَيۡنَ الۡمَفَرُّ﴾ ’’آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے، اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے؟

[13-11]﴿ كَلَّا لَا وَزَرَ﴾ ’’ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡمُسۡتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا:﴿ يُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ﴾ ’’اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔‘‘ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔

[15,14]﴿ بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ﴾ ’’بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔‘‘ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗ﴾ ’’خواہ وہ معذرت پیش کرے۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسرائیل:17؍14) ’’اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔‘‘ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘