Al-Mulk
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
ءَأَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ 16 أَمْ أَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ 17 وَلَقَدْ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ 18
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔