سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Taghaabun
سورت 64

At-Taghaabun

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 1–4

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ 1 هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ 2 خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ 3 يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ 4

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔

[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘

[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔

[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔