Al-An'aam
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَـٰرَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ 46 قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ 47
کہہ دیجیے، مجھے بتلاؤ! اگر چھین لے اللہ، تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور مہر لگادے تمھارے دلوں پر تو کون معبودہے سوائے اللہ کے ،جو لادے تمھیں یہ(چیزیں )؟ دیکھیے!کس طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ، پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں (46) کہہ دیجیے،مجھے بتلاؤ! اگر آجائے تم پر عذاب اللہ کا یکایک یا علانیہ تو نہیں ہلاک کیے جائیں گے مگر ظالم لوگ ہی(47)
[46] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جس طرح وہ تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اسی طرح وہ وحدانیت اور الوہیت میں بھی متفرد ہے۔ فرمایا ﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰهُ سَمۡعَكُمۡ وَاَبۡصَارَؔكُمۡ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے بتلاؤ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمھارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمھارے دلوں پر‘‘یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمھاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت: ﴿ مَّنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ ﴾ ’’تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دے۔‘‘جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کر سکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔ یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لیے فرمایا ﴿اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو! ہم کیوں کر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں ‘‘ یعنی ہم اپنی آیات کو کس طرح متنوع بناتے ہیں ، ہم ہر اسلوب میں اپنی نشانی لاتے ہیں ۔ تاکہ حق روشن اور مجرموں کی راہ واضح ہو جائے ﴿ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی اس کامل تبیین و توضیح کے باوجود بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں ۔
[47]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتَكُمۡ ﴾ یعنی مجھے خبر دو ﴿ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ بَغۡتَةً اَوۡ جَهۡرَةً ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ جائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہو جائیں جن سے تمھیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہو جائے ﴿ هَلۡ يُهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔‘‘ یعنی وہی ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لیے ظلم پر قائم رہنے سے بچو کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔