Al-Waaqia
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَ 71 ءَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشِـُٔونَ 72 نَحْنُ جَعَلْنَـٰهَا تَذْكِرَةً وَمَتَـٰعًا لِّلْمُقْوِينَ 73 فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ 74
بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74)
[73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔
[74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔