Ar-Rahmaan
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِن صَلْصَـٰلٍ كَٱلْفَخَّارِ 14 وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ 15 فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 16
اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16)
[14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔
[15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔
[16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘