سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Jaathiya
سورت 45

Al-Jaathiya

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 21

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجْتَرَحُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ 21

کیا گمان کر لیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے ارتکاب کیا برائیوں کا، یہ کہ کر دیں گے ہم ان کو مانند ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، برابر ہے جینا ان کا اور مرنا ان کا، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (21)

[21] یعنی کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگ اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں ﴿اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کیے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ﴿سَوَآءًؔ﴾ وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے۔ اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انھوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے متناقض اور ان اصولوں کے متضاد ہے جنھیں لے کر کتابیں نازل ہوئیں اور جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے آگاہ کیا۔ فی الواقع قطعی فیصلہ یہ ہے کہ اہل ایمان جو نیک عمل کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کی نیکی کے مطابق نصرت، فلاح، سعادت اور دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ، رسوائی، عذاب اور بدبختی ہے۔