Az-Zumar
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَ ۚ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَمْلِكُونَ شَيْـًٔا وَلَا يَعْقِلُونَ 43 قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَـٰعَةُ جَمِيعًا ۖ لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 44
کیا بنائے ہیں انھوں نے اللہ کے سواسفارشی، کہہ دیجیے:اگرچہ ہوں وہ نہ اختیار رکھتے کسی چیز کا اور نہ عقل رکھتے( ہوں)(43) کہہ دیجیے: اللہ ہی کے لیے ہے سفارش سب، اسی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (44)
[43] اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿قُلۡ ﴾ ان کی جہالت اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَوَلَوۡ كَانُوۡا﴾ ’’خواہ وہ۔‘‘ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ زمین اور آسمان میں، چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں، بلکہ ﴿وَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت، بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں، جس نے ان کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے؟
[44]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے: ﴿لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اچھے سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تر اسی کا اختیار ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے‘‘ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لیے عبادات کو خالص کیا جائے ﴿ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔