As-Saaffaat
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ 123 إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ 124 أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَـٰلِقِينَ 125 ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ 126 فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ 127 إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ 128 وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ 129 سَلَـٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ 130 إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ 131 إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ 132
اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)
[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔