Yaseen
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنصَرُونَ 74 لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ 75
اور بنالیے انھوں نے سوائے اللہ کے، کئی معبود، تاکہ وہ مدد کیے جائیں (74) نہیں طاقت رکھتے وہ (معبود) ان کی مدد کرنے کی اور وہ (مشرکین) تو خود ان (بتوں) کے (حمایتی) لشکر ہیں، حاضر کیے گئے (75)
[74، 75] یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ ﴾ ’’نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں‘‘ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو وہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے، استطاعت اور ارادہ۔ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہو جاتی ہے۔ ﴿وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ انھوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے براء ت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اسی ہستی کے لیے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔