سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Room
سورت 30

Ar-Room

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 17–19

فَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ 17 وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ 18 يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَيُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ 19

پس تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو(17) اور اسی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرو(18) وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور وہی نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور وہی زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعداس کی موت (ویرانی) کے، اور اسی طرح نکالے جاؤ گے تم بھی(19)

[17، 18] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام، عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات، پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات، جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے، افضل ترین اوقات ہیں، اس لیے ان اوقات میں تسبیح و تحمید اور عبادات، دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات، اگرچہ وہ ’’سبحان اللہ‘‘ پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح و تحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طورپر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنزیہ ہے کہ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔

[19]﴿يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔‘‘ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔‘‘ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَيُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا‘‘ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔