Aal-i-Imraan
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ 16 ٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلْقَـٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ 17
وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)
[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟