سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ankaboot
سورت 29

Al-Ankaboot

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 53–55

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَآ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ 53 يَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ 54 يَوْمَ يَغْشَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 55

اور وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں آپ سے عذاب، اور اگر نہ ہوتا (عذاب کا) وقت مقرر تو البتہ آ جاتا ان کے پاس عذاب، اور البتہ وہ ضرور آئے گا ان کے پاس اچانک ہی، اور وہ نہیں شعور رکھتے ہوں گے(53) وہ جلدی مانگتے ہیں آپ سے عذاب، اور بلاشبہ جہنم البتہ گھیرنے والی ہے کافروں کو(54) اس دن ڈھانپ لے گا ان کو عذاب، ان کے اوپر سے اور نیچے سے ان کے پاؤ ں کے، اور فرمائے گا وہ (اللہ:) چکھو تم (مزہ اس کا) جو کچھ تھے تم عمل کرتے(55)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول (ﷺ)اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلاء کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾(الملک:67؍25) ’’یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی ﴿لَّجَآءَهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’توان پر عذاب آچکا ہوتا۔‘‘ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بے بس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہو جاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن جاتیں، بایں ہمہ اس کے وقت نزول کو دور نہ سمجھیں کیونکہ یہ عذاب عنقریب ان کو پہنچے گا ﴿بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اچانک اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔‘‘ لہٰذا ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جب وہ اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے میدان ’’بدر‘‘ میں اترے تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا، ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہو گئے اور تمام شریر لوگوں کا استیصال ہو گیا اور (مکہ میں) کوئی گھر نہ ایسا نہ بچا جسے یہ مصیبت نہ پہنچی ہو۔ ان پر اس طرح عذاب آیا کہ ان کو وہم و گمان اور شعور تک نہ تھا...

[54] تاہم اگر ان پر دنیاوی عذاب نازل نہیں ہوا تو اخروی عذاب ان کے سامنے ہے جس سے کوئی شخص نہیں بچ سکے گا خواہ دنیا میں اس پر عذاب نازل ہوا ہو یا اسے مہلت دے دی گئی ہو۔ ﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور بے شک جہنم کافروں کو گھیرنے والا والی ہے۔‘‘ جہنم کا عذاب ان سے دور ہو گا نہ اسے ان سے ہٹایا جا سکے گا۔ جہنم کا عذاب انھیں ہر طرف سے گھیرلے گا جیسے ان کے گناہوں، ان کی برائیوں اور ان کے کفر نے انھیں گھیر رکھا ہے۔ یہ عذاب بہت سخت عذاب ہو گا۔

[55] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَوۡمَ يَغۡشٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَمِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ وَيَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس دن ان کو عذاب ڈھانپ لے گا، ان کے اوپر اور ان کے قدموں کے نیچے سے اور اللہ کہے گا، چکھو مزا اس کا جو تم کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ تمھارے اعمال تمھارے لیے عذاب بن گئے جس طرح تمھارا کفر اور تمھارے گناہ بے شمار تھے اسی طرح تمھارے لیے عذاب بھی لامحدود ہو گا۔