Al-Qasas
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ 68 وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ 69 وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلْأُولَىٰ وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَلَهُ ٱلْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 70
اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70)
[70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔