Al-Hajj
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ 73 مَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ 74
اے لوگو! بیان کی گئی ہے ایک مثال، پس کان لگاؤ تم اس کے لیے (غور سے سنو)، بے شک وہ لوگ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، ہرگز نہیں پیدا کر سکیں گے وہ ایک مکھی بھی اگر چہ اکٹھے ہو جائیں وہ اس کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی کچھ تو نہیں چھڑا سکتے وہ اس کو اس سے ، کمزور ہے طلب کرنے والا (عابد) اور وہ جس سے طلب کیا جاتا ہے (معبود)(73) نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جس طرح حق ہے اس کی قدر کرنے کا، بے شک اللہ البتہ نہایت قوت والا غالب ہے (74)
[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ﴾ ’’اے لوگو!‘‘ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لیے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ﴾ یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمھارے دلوں کو غافل اور تمھارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔وہ مثال یہ ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ ﴿ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا ﴾ ’’وہ مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے‘‘ جو حقیر ترین اور خسیس ترین مخلوق ہے۔ پس وہ اس نہایت کمزور سی مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں ، اس لیے بڑی مخلوق تو وہ کیا پیدا کر سکتے ہیں ؟ ﴿ وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ﴾ ’’اگرچہ وہ سب اکٹھے کیوں نہ ہو جائیں ۔‘‘ بلکہ اس سے بھی بلیغ تر بات یہ ہے کہ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡلُبۡهُمُ الذُّبَابُ شَيۡـًٔؔا لَّا يَسۡتَنۡقِذُوۡهُ۠ مِنۡهُ﴾’’اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو وہ اس سے وہ بھی نہیں چھڑا سکتے۔‘‘ یہ عجز اور بے بسی کی انتہاء ہے۔﴿ ضَعُفَ الطَّالِبُ ﴾ ’’کمزور ہے طالب۔‘‘ یعنی وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے ﴿ وَالۡمَطۡلُوۡبُ ﴾ ’’اور وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔‘‘ یعنی مکھی، پس دونوں ہی کمزور ہیں اور ان دونوں سے بھی کمزور تر وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان کو رب العالمین کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں ﴿مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ﴾’’جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایک ایسی ہستی کو جو ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہے، اس اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنا دیا جو ہر اعتبار سے بے نیاز اور طاقتور ہے۔ انھوں نے اس ہستی کو، جو خود اپنے یا کسی دوسرے کے لیے کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے اور نہ دوبارہ زندہ اٹھانے پر قادر ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرا دیا جو نفع و نقصان کی مالک ہے، جو عطا کرتی ہے اور محروم کرتی ہے، جو اقتدار کی مالک اور اپنی بادشاہی میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ کامل قوت اور کامل عزت کا مالک ہے اس کی قوت کاملہ اور کامل غلبے کا یہ حال ہے کہ تمام مخلوق کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ وہ تمام مخلوق کو اول سے لے کر آخر تک، ایک چنگھاڑ کے ذریعے سے زندہ اٹھا کر کھڑا کرے گا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ اس نے بڑے بڑے جابروں اور سرکش قوموں کو ایک معمولی سی چیز اور اپنے عذاب کے کوڑے سے ہلاک کر ڈالا۔