سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hajj
سورت 22

Al-Hajj

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 3–4

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَـٰدِلُ فِى ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَـٰنٍ مَّرِيدٍ 3 كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُۥ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُۥ يُضِلُّهُۥ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ 4

اور کچھ لوگ وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت بغیر علم کےاور اتباع کرتے ہیں وہ ہر شیطان سرکش کا (3) لکھ دیا گیا ہے اس کی بابت کو بے شک جو کوئی دوستی کرے گا اس سے تو بے شک وہ گمراہ کر دے گا اس کواور راہنمائی کرے گا اس کی طرف عذاب جہنم کی (4)

[4,3] یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں ، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں ، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’لکھ دیا گیا ہے اس پر۔‘‘ یعنی اس سرکش شیطان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ ﴾ کہ جو اس کی پیروی کرے گا ﴿ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ ﴾ وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا ﴿ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ﴾ اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقینا ابلیس کا نائب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں ۔‘‘ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے… اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں ۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔