سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anbiyaa
سورت 21

Al-Anbiyaa

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 91–94

وَٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَـٰهَا وَٱبْنَهَآ ءَايَةً لِّلْعَـٰلَمِينَ 91 إِنَّ هَـٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ 92 وَتَقَطَّعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَٰجِعُونَ 93 فَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَـٰتِبُونَ 94

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94)

[91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

[92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔

[93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔

[94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔