سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anbiyaa
سورت 21

Al-Anbiyaa

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 18–20

بَلْ نَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَى ٱلْبَـٰطِلِ فَيَدْمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ ٱلْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ 18 وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُۥ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ 19 يُسَبِّحُونَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ 20

بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔

[19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔

[20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔