Maryam
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وُدًّا 96
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، عنقریب پیدا کر دے گا ان کے لیے رحمٰن محبت (96)
[96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنھوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا… کہ وہ ان کے لیے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لیے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں ، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلu کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم بھی اسے محبوب رکھو، آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں میں اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ، ح:6040 و صحیح مسلم، البرو الصلۃ، باب اذا احب اللہ عبدا…، ح:2637) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اس لیے پیدا کی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے نزدیک ان کو محبوب بنا دیا۔