سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nahl
سورت 16

An-Nahl

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 68–69

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ 68 ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ 69

اور الہام کیا آپ کے رب نے شہد کی مکھی کو یہ کہ بنا تو پہاڑوں میں گھر اوردرختوں میں اور ان میں جو (بلند)چھتریاں بناتے ہیں لوگ (68) پھر کھا تو (یعنی رس چوس) ہر قسم کے پھلوں سے، پھر چل تو راستوں پر اپنے رب کے ، آسان کیے ہوئے، نکلتی ہے ان کے پیٹوں سے پینے کی چیز (شہد) مختلف ہیں رنگ اس کے ، اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ، بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں (69)

[69,68] اس چھوٹی سی شہد کی مکھی میں بھی غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طریقے سے راہنمائی کی اور اسے (پھولوں کا رس چوسنے کے لیے) پھلواریاں مہیا کیں ، پھر ان گھروں کی طرف واپس لوٹنے کے لیے وحی کی جو اس نے اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے تیار کیے تھے۔ وہ شہد کی اس مکھی کے پیٹ سے نہایت لذیذ شہد نکالتا ہے جو زمین اور پھلواری کے مطابق مختلف رنگوں کا ہوتا ہے۔ شہد میں لوگوں کے لیے متعدد امراض سے شفا رکھ دی گئی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی لامحدود عنایت اور اپنے بندوں پر اس کے کامل لطف و کرم پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی سے محبت کی جائے نہ اس کے سوا کسی کو پکارا جائے۔