سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hijr
سورت 15

Al-Hijr

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 80–84

وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَـٰبُ ٱلْحِجْرِ ٱلْمُرْسَلِينَ 80 وَءَاتَيْنَـٰهُمْ ءَايَـٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ 81 وَكَانُوا۟ يَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ 82 فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ 83 فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ 84

اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)

[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔

[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔

[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘

[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔

[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔