Yusuf
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ 101
اے میرے رب! تحقیق دی تو نے مجھے کچھ بادشاہی اور سکھائی تو نے مجھے تعبیر خوابوں کی، اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے! تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا اور آخرت میں تو فوت کر مجھے مسلمان اور ملا دے مجھے ساتھ صالحین کے (101)
[101] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسفu کو زمین میں مکمل اقتدار عطا کر دیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں تو یوسفu نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے، اس پر اس کا شکر ادا کرتے اور اسلام پر ثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِيۡ مِنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اے رب تو نے مجھے بادشاہی سے حصہ دیا‘‘ یہ انھوں نے اس لیے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡتَنِيۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔‘‘ یعنی تو نے مجھے آسمانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا ﴿ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١۫ اَنۡتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيۡ مُسۡلِمًا ﴾ ’’اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے… مجھے اسلام پر موت دے‘‘ یعنی مجھے اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھ حتیٰ کہ اسلام ہی پر مجھے وفات دے۔ یہ دعا موت کے جلدی آنے کی دعا نہیں ہے۔ ﴿ وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے نیک بندوں میں داخل کردیجیے۔‘‘ یعنی مجھے انبیاء و ابرار، اپنے چنے ہوئے اور بہترین بندوں میں شامل کر۔