Quraish
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
لِإِيلَـٰفِ قُرَيْشٍ 1 إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ 2 فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلْبَيْتِ 3 ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ 4
بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔