Al-Humaza
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ 1 ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ 2 يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ 3 كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ 4 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ 5 نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ 6 ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ 7 إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ 8 فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ 9
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔