سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qaari'a
سورت 101

Al-Qaari'a

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 1–11

ٱلْقَارِعَةُ 1 مَا ٱلْقَارِعَةُ 2 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ 3 يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ 4 وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ 5 فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ 6 فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ 7 وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ 8 فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌ 9 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ 10 نَارٌ حَامِيَةٌۢ 11

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘

[4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔

[5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔

[6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔

[11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔