Yunus
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ 66 هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ 67
آگاہ رہو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں اور نہیں پیروی کرتے وہ لوگ جو پکارتے ہیں سوائے اللہ کے( دوسرے شریکوں کو)، شریکوں کی نہیں پیروی کرتے وہ (حقیقت میں ) مگر صرف گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل (خود گھڑ کر باتیں ) کرتے (66) وہی ہے (اللہ) جس نے بنایا واسطے تمھارے رات کو تاکہ تم سکون کرو اس میں اور (بنایا) دن دکھلانے والا (روشن)، بلاشبہ اس میں یقینا بہت بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں (67)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جیسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے سے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک، اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾ ’’اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے، سو یہ کچھ نہیں مگر پیروی کرنے والے ہیں اپنے گمان کی‘‘ یعنی وہ ظن اور گمان، جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا ﴿ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس بارے میں محض اندازوں اور بہتان و افترا سے کام لیتے ہیں ۔ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے میں اگر وہ سچے ہیں تو ان کے وہ اوصاف سامنے لائیں جو ان کو ذرہ بھر عبادت کا مستحق قرار دیتے ہوں ۔ وہ کبھی ایسا نہیں کر سکیں گے۔ کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو کوئی چیز پیدا کر سکتا ہو؟ یا وہ رزق عطا کرتا ہو؟ یا وہ مخلوقات میں سے کسی چیز کا مالک ہو؟ یا وہ گردش لیل و نہار کی تدبیر کرتا ہو؟ جس نے اسے لوگوں کی روزی کا سبب بنایا؟
[67]﴿ هُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’وہی اللہ ہے جس نے بنایا تمھارے واسطے رات کو تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو‘‘ تاکہ اس تاریکی کے سبب سے جو تمام روئے زمین کو ڈھانک لیتی ہے، نیند اور راحت میں سکون پاؤ، اگر سورج کی روشنی ہمیشہ برقرار رہتی تو انھیں قراروسکون نہ ملتا۔ ﴿وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا﴾ ’’اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے دن کو روشن بنایا تاکہ دن کی روشنی میں مخلوق دیکھ سکے، لوگ اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے چل پھر سکیں ۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّسۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اس میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ جو سمجھنے، قبول کرنے اور رشد و ہدایت طلب کرنے کے لیے سنتے ہیں ۔ عناد اور نکتہ چینی کے لیے نہیں سنتے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں اور ان نشانیوں سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود اور معبود برحق ہے اور اس کے سوا ہر ایک ہستی کی الوہیت باطل ہے اور یہ کہ وہی رؤف و رحیم اور علم و حکمت والا ہے۔