سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yunus
سورت 10

Yunus

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَـٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَـٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَـٰهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ 24

یقینا مثال زندگانی دنیا کی مانند اس پانی کے ہے کہ ہم نے نازل کیا اس کو آسمان سے، پھر مل جل گئی اس کے سبب سے روئیدگی زمین کی، اس چیز میں سے جسے کھاتے ہیں انسان اور چوپائے، یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اپنی اور مزین ہو گئی اور گمان کر لیا اہل زمین نے کہ بے شک وہ قادر ہیں اس (سے فائدہ اٹھانے) پر تو (اچانک) آگیا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کو، پس کردیا ہم نے اس (لہلہاتی کھیتی) کو کٹی ہوئی کھیتی (کی طرح)، گویا کہ نہیں تھی وہ کل، اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی آیتیں واسطے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں (24)

[24] یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریص بندے کے لیے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لیے ہے۔ جب دنیا مکمل ہو جاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہو جاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ پس بندہ دنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و غم اور حسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’مانند اس پانی کے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا‘‘ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت جوڑے اگ آئے ﴿ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ ﴾ ’’جو کہ کھائیں آدمی‘‘مثلاً: غلہ جات اور پھل وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاَنۡعَامُ﴾ ’’اور مویشی‘‘ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں ، مثلاً:مختلف اقسام کی گھاس پات، وغیرہ ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ ﴾’’یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے اپنی رونق اور خوب مزین ہو گئی‘‘ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہو جاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے تو دیکھنے والوں کے لیے خوش منظر، غم ہلکا کرنے والوں کے لیے ذریعۂ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز، زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔﴿ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ﴾ ’’اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی‘‘ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ﴿ اَتٰىهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ﴾’’ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم، رات کو یا دن کو، پھر کر دیا اس کو کاٹ کر ڈھیر، گویا کہ کل یہاں آبادی ہی نہ تھی‘‘ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں ۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے، بالکل اس جیسی ہی۔﴿ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو، ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سامنے جو غوروفکر کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں ۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص تو یہ آیات اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو زائل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا تو اب ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے، چنانچہ فرمایا: