Al-Jinn
الجواهر الحسان في تفسير القرآنیہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا 11 وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًا 12 وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا ٱلْهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦ ۖ فَمَن يُؤْمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا 13 وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًا 14 وَأَمَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا 15
وقولهم: وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ إلى آخرِ قولهم: وَمِنَّا الْقاسِطُونَ هُوَ من قولِ الجِنّ، وقولهم: وَمِنَّا دُونَ ذلِكَ أي: غَيْرُ صالحين، - ص-: دُونَ ذلِكَ قِيل:
بمعنى غَيْرُ ذلك، وقيلَ: دُونَ ذلكَ في الصلاحِ، ف «دون» في موضِع الصِّفَةِ لمحذوفٍ، أي: ومنَّا قومٌ دونَ ذلك، انتهى، والطرائقُ: السِّيَرُ المختلفَة، والقِدَدُ كذلكَ هي الأشْياء المختلفة كأنه قَدْ قُدَّ بعضُها من بعضٍ وفُصِلَ، قال ابن عباس وغيره: طَرائِقَ قِدَداً أهواء مختلفةً [[أخرجه الطبري (12/ 266) ، رقم: (35089) بنحوه. وذكره ابن عطية (5/ 382) ، وابن كثير (4/ 430) ، والسيوطي في «الدر المنثور» (6/ 435) ، وعزاه لابن جرير، وابن أبي حاتم.]] . وقولهم: وَأَنَّا ظَنَنَّا أي: تَيَقَّنَّا، فالظِّنّ هنا بمعنى الْعِلْمِ أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ ... الآية، وهذا إخبارٌ منهم عَنْ حَالِهِمْ بَعْدِ إيمانِهم بما سمعوا من نبينا محمّد ﷺ، والْهُدى يريدونَ به القرآنَ، والبَخْسُ النَّقْصُ، والرَّهَقُ تَحْمِيلُ مَا لاَ يطاقُ، وما يَثْقُل، قال ابن عباس: البَخْسُ نَقْصُ الحسناتِ [[أخرجه الطبري (12/ 267) ، رقم: (35095) بنحوه، وذكره ابن عطية (5/ 382) ، وابن كثير (4/ 430) ، والسيوطي في «الدر المنثور» (6/ 435) ، وعزاه لابن المنذر، وابن أبي حاتم.]] ، والرَّهَقُ الزيادةُ في السيئات.
وقوله تعالى: فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولئِكَ تَحَرَّوْا رَشَداً الوجْهُ فيه أنْ يكونَ مخاطَبَةً من الله تعالى لنبيه محمّد ع ويؤيّده ما بعده من الآيات، وتَحَرَّوْا معناه: طلبوا باجتهادهم.