سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr ath-Thaʿālibī · Al-Waaqia
سورت 56

Al-Waaqia

الجواهر الحسان في تفسير القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 58–63

أَفَرَءَيْتُم مَّا تُمْنُونَ 58 ءَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَـٰلِقُونَ 59 نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ 60 عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَـٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَ 61 وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ 62 أَفَرَءَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ 63

وقوله سبحانه: أَفَرَأَيْتُمْ مَّا تُمْنُونَ الآية: وليس يوجد مفطورٌ، يخفى عليه أَنَّ المَنِيَّ الذي يخرُجُ منه ليس له فيه عمل ولا إرادة ولا قدرة، وقرأ الجمهور: «قَدَّرْنَا» وقرأ ابن كثير وحده [[ينظر: «السبعة» (623) ، و «الحجة» (6/ 261) ، و «إعراب القراءات» (2/ 347) ، و «حجة القراءات»]] : «قَدَرْنَا» بتخفيف الدال، فيحتمل أَنْ يكونَ المعنى فيهما: قضينا وأثبتنا، ويحتمل أَنْ يكون بمعنى: سَوَّيْنَا، قال الثعلبيُّ عنِ الضحاك [[ذكره البغوي (4/ 287) ، وابن كثير في «تفسيره» (4/ 295) .]] : أي: سَوَّيْنَا بين أهل السماء وأهل الأرض.

وقوله: وَما نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ أي: على تبديلكم إنْ أردناه، وأَنْ نُنْشِئَكُمْ بأوصاف لا يصلها علمُكُم، ولا يُحيطُ بها فكركم، قال الحسن [[ذكره البغوي (4/ 287) ، وابن عطية (5/ 248) .]] : من كونهم قردةً وخنازيرَ لأَنَّ الآية تنحو إلى الوعيد، والنَّشْأَةَ الْأُولى: قال أكثر المفسرين: إشارة إلى خلق آدم، وقيل: المراد: نشأة الإنسان في طفولته، وهذه الآية نَصٌّ في استعمال القياس والحَضِّ عليه، وعبارة الثعلبي: ويقال: النَّشْأَةَ الْأُولى نطفة، ثم عَلَقَةٌ، ثم مُضْغَةٌ، ولم يكونوا شيئاً فَلَوْلا أي: فهلا تذكرون أَنِّي قادر على إعادتكم كما قَدَرْتُ على إبدائكم، وفيه دليل على صِحَّةِ القياس لأَنَّهُ عَلَّمَهُمْ سبحانه الاستدلال بالنشأة الأولى على النشأة الأخرى، انتهى.