سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr ath-Thaʿālibī · At-Tur
سورت 52

At-Tur

الجواهر الحسان في تفسير القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 37–43

أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ ٱلْمُصَۣيْطِرُونَ 37 أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ 38 أَمْ لَهُ ٱلْبَنَـٰتُ وَلَكُمُ ٱلْبَنُونَ 39 أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ 40 أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ 41 أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هُمُ ٱلْمَكِيدُونَ 42 أَمْ لَهُمْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ 43

وقوله سبحانه: أَمْ عِنْدَهُمْ خَزائِنُ رَبِّكَ بمنزلة قوله: أم عندهم الاستغناء في جميع الأمور؟ والمصيطر: القاهر، وبذلك فسر ابن عباس [[أخرجه الطبري (11/ 496) برقم: (32386) ، وذكره ابن عطية (5/ 193) ، والسيوطي في «الدر المنثور» (6/ 150) ، وعزاه لابن جرير، وابن المنذر، وابن أبي حاتم.]] الآية، والسُّلَّمُ: السبب الذي يُصْعَدُ به، كان ما كان من خشب، أو بناء، أو حبال، أو غير ذلك، والمعنى: ألهم سُلَّمٌ إِلى السماء يستمعون فيه، أي: عليه أو منه، وهذه حروف يَسُدُّ بعضُها مَسَدَّ بعض، والمعنى:

يستمعون الخبر بِصِحَّةِ ما يدعونه، فليأتوا بالحُجَّةِ المبينة في ذلك.

وقوله سبحانه: أَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ الآية، قال ابن عباس [[ذكره البغوي (4/ 242) ، وذكره ابن عطية (5/ 193) .]] : يعني أَمْ عندهم اللوحُ المحفوظ، فَهُمْ يَكْتُبُونَ: ما فيه، ويخبرون به، ثم قال: أَمْ يُرِيدُونَ كَيْداً: بك وبالشرع، ثم جزم الخبر بأنَّهم هُمُ الْمَكِيدُونَ أي: هم المغلوبون، فَسَمَّى غَلَبَتَهُمْ كيداً إذ كانت عقوبةُ الكَيْدِ، ثم قال سبحانه: أَمْ لَهُمْ إِلهٌ غَيْرُ اللَّهِ: يعصمهم ويمنعهم من الهلاك، قال الثعلبيُّ: قال الخليل: ما في سورة الطور كُلِّها من ذكر «أم» كُلُّه استفهام لهم، انتهى.

ثم نَزَّهَ تعالى نفسه: عَمَّا يُشْرِكُونَ به.