Ad-Dukhaan
الجواهر الحسان في تفسير القرآنیہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ 43 طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ 44 كَٱلْمُهْلِ يَغْلِى فِى ٱلْبُطُونِ 45 كَغَلْىِ ٱلْحَمِيمِ 46 خُذُوهُ فَٱعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ 47 ثُمَّ صُبُّوا۟ فَوْقَ رَأْسِهِۦ مِنْ عَذَابِ ٱلْحَمِيمِ 48 ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْكَرِيمُ 49
وقوله سبحانه: إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعامُ الْأَثِيمِ روي عن ابن زيد أنّ الأثيم المشار إليه أَبُو جَهْلٍ، ثم هي بالمعنى تتنَاوَلُ كُلَّ أثيمٍ، وهو كُلُّ فاجر، رُوِيَ أَنَّهَا لَمَّا نَزَلَتْ، جَمَعَ أبو جَهْلٍ عَجْوَةً وَزُبْداً، وقال لأصحابه: تَزَقَّمُوا، فهذا هو الزَّقُّومُ، وهو طَعَامِي الذي حَدَّثَ به محمَّدٌ، قال ع [[ينظر: «المحرر الوجيز» (5/ 76) .]] : وإنَّما قصد بذلك ضَرْباً من المغالطة والتلبيس عَلَى الجَهَلَةِ.
وقوله سبحانه: كَالْمُهْلِ قال ابن عباس، وابن عمر [[أخرجه الطبري (11/ 243- 244) برقم: (31152- 31155) عن ابن عبّاس، وذكره ابن عطية (5/ 76) .]] : «المُهْلُ» : دُرْدِيُّ الزَّيْتِ وعَكَرُهُ، وقال ابن مَسْعُودٍ وغيره [[أخرجه الطبري (8/ 218) برقم: (23040) ، وذكره ابن عطية (5/ 76) .]] : «المُهْلُ» : ما ذاب مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، والمعنى: أَنَّ هذه الشجَرَةَ إذا طَعِمَهَا الكافِرُ في جَهَنَّمَ، صارَتْ في جوفه تَفْعَلُ كما يفعل المُهْلُ المذاب من الإحراق والإفساد،، والْحَمِيمِ: الماءُ السُّخْنُ الذي يتطايَرُ من غليانه.
وقوله: خُذُوهُ ... الآية، أي: يقال يومئذ للملائكة: خذوه، يعني الأثيم فَاعْتِلُوهُ و «العَتْلُ» : السَّوْقُ بعُنْفٍ وإهانةٍ، ودَفْعٌ قَوِيٌّ مُتَّصِلٌ، كما يُسَاقُ أبداً مرتكبُ الجرائمِ، و «السَّوَاء» : الوَسَط، وقيل: المُعْظمُ، وذلك متلازِمٌ.
وقوله تعالى: ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ مخاطبة على معنى التّقريع.