سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr ath-Thaʿālibī · An-Nisaa
سورت 4

An-Nisaa

الجواهر الحسان في تفسير القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 51–52

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا 51 أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا 52

وقوله تعالى: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ ... الآية: أجْمَعَ المتأوِّلون أنَّ المراد بها طائفةٌ من اليهود، والقَصَصُ يبيِّن ذلك، ومجموعُ ما ذكره المفسّرون في تفسيره الجِبْتِ والطَّاغُوتِ يقتضي أنَّهُ كُلُّ مَا عُبِدَ وأُطِيعَ مِنْ دُونِ اللَّهِ تعالى.

وقوله تعالى: وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ... الآية: سببها أنَّ قريشاً قالَتْ لِكَعْبِ بْنِ الأشْرَفِ، حين وَرَدَ مكَّة: أنْتَ سَيِّدُنَا، وَسيِّدُ قَوْمِكَ، إنَّا قومٌ نَنْحَرُ الكَوْمَاءَ [[ناقة كوماء: عظيمة السّنام طويلته. ينظر: «لسان العرب» (3958) .]] ، وَنَقْرِي الضَّيْفَ، وَنَصِلُ الرَّحِمَ، وَنَسْقِي الحَجِيجَ، وَنَعْبُدُ آلِهَتَنَا الَّتِي وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا، وهَذَا مُحَمَّدٌ قَدْ قَطَعَ الرَّحِمَ، فَمَنْ أهدى نَحْنُ أوْ هُوَ؟ فَقَالَ كَعْبٌ: أَنْتُمْ أهدى مِنْهُ، وَأَقْوَمُ دِيناً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيةُ، قاله ابنُ عبَّاسٍ [[أخرجه الطبري (4/ 136- 137) برقم (9791) ، وذكره ابن عطية (2/ 66- 67) ، وابن كثير (1/ 513) .]] ، فالضمير في «يَقُولُونَ» / عائد على كعْبٍ، وعلى الجماعةِ الَّتي معه من اليهودِ المُحَرِّضين على قتال النبيّ ﷺ و «الّذين كَفَرُوا» في هذه الآيةِ هم كفَّار قريشٍ، والإشارة ب «هؤلاء» إليهم والَّذِين آمنوا هم النبيّ ﷺ وأمته، وقالتْ فرقة:

بل المرادُ حُيَيُّ بنُ أَخْطَبَ وأتباعه، وهم المقصودُ من أول الآيات.

قال ص: «لِلَّذِينَ» : اللامُ للتبليغِ متعلِّقة ب «يقولون» . انتهى.