Ibrahim
الجواهر الحسان في تفسير القرآنیہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ 4 وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ 5 وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ 6
وقوله سبحانه: وَما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ... الآية، هذه الآيةُ طعن وردّ على المستغربين أمر محمّد ﷺ، وباقي الآية بيِّن.
وقوله سبحانه لموسَى: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ: أي: عظْهم بالتهديدِ بِنِقَمِ اللَّهِ التي/ أحلَّها بالأمم الكَافرة قَبْلهم، وبالتَّعْديدِ لنعمه علَيْهم، وعَبَّرَ عن النعم وَالنِّقَمِ ب «الأَيَّامِ» إِذ هي في أيامٍ، وفي هذه العبارةِ تعظيمُ هذه الكوائنِ المذكَّر بها، وفي الحديثِ الصحيحِ:
«بَيْنَمَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ أيَّامَ اللَّهِ ... » الحديث، في قصة موسَى مع الخَضِرِ.
قال عياضٌ في «الإِكمال» : «أَيَّامِ الله» : نَعْمَاؤه وبلاؤه، انتهى. وقال الداوديّ: وعن النبيّ ﷺ: «وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ: قال: بِنِعَمِ اللَّهِ» وعن قتادة: لَآياتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ: قال: نعْمَ، واللَّهِ، العبدُ إِذا ابتلي صَبَرَ، وإِذا أُعْطِيَ شَكَرَ. انتهى [[أخرجه الطبري (7/ 418) برقم: (20581) ، وذكره ابن كثير في «تفسيره» (2/ 523) ، والسيوطي في «الدر المنثور» (4/ 132) ، وعزاه لعبد بن حميد، وابن جرير، وابن المنذر، وابن أبي حاتم.]] .
وقال ابنُ العربيِّ في «أَحكامه» : وفي بِأَيَّامِ اللَّهِ قولان: أحدهما: نعمه. والثاني:
نقمه. انتهى.