سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr aṭ-Ṭabarī · Al-Israa
سورت 17

Al-Israa

جامع البيان في تأويل آي القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 45

وَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا 45

القول في تأويل قوله تعالى: ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا (٤٥) ﴾

يقول تعالى ذكره: وإذا قرأت يا محمد القرآن على هؤلاء المشركين الذين لا يصدقون بالبعث، ولا يقرّون بالثواب والعقاب، جعلنا بينك وبينهم حجابا، يحجب قلوبهم عن أن يفهموا ما تقرؤه عليهم، فينتفعوا به، عقوبة منا لهم على كفرهم. والحجاب ههنا: هو الساتر.

كما:-

⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، قوله ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ الحجاب المستور أكنة على قلوبهم أن يفقهوه وأن ينتفعوا به، أطاعوا الشيطان فاستحوذ عليهم.

⁕ حدثنا محمد، قال: ثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن قتادة ﴿حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ قال: هي الأكنة.

⁕ حدثني يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد، في قوله ﴿وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا﴾ قال: قال أُبيّ: لا يفقهونه، وقرأ ﴿قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ﴾ لا يخلص ذلك إليهم.

وكان بعض نحويي أهل البصرة يقول: معنى قوله ﴿حِجابًا مَسْتُورًا﴾ حِجابا ساترا، ولكنه أخرج وهو فاعل في لفظ المفعول، كما يقال: إنك مشئوم علينا وميمون، وإنما هو شائم ويامن، لأنه من شأمهم ويمنهم. قال: والحجاب ههنا: هو الساتر، وقال: مستورا. وكان غيره من أهل العربية يقول: معنى ذلك: حجابا مستورا عن العباد فلا يرونه.

وهذا القول الثاني أظهر بمعنى الكلام أن يكون المستور هو الحجاب، فيكون معناه: أن لله سترا عن أبصار الناس فلا تدركه أبصارهم، وإن كان للقول الأوّل وجه مفهوم.