An-Naazi'aat
Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.
Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ 34 يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ 35 وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ 36 فَأَمَّا مَن طَغَىٰ 37 وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا 38 فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ 39 وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ 40 فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ 41
پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41)
[36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔
[39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔
[40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔